Search This Blog

Tuesday, June 16, 2026

لوگ کیا کہیں گے؟

 

لوگ کیا کہیں گے؟
تحریر: ساحرہ ظفر

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے کا سب سے طاقتور جملہ "لوگ کیا کہیں گے؟" ہے۔ یہ جملہ نہ صرف فیصلے بدل دیتا ہے بلکہ انسان کی پوری زندگی کا رخ موڑ دیتا ہے

۔

کتنے لوگ ہیں جو سچ جانتے ہوئے بھی خاموش رہ جاتے ہیں، صرف اس لیے کہ کہیں لوگ انہیں برا نہ کہہ دیں۔ کتنے خواب صرف اس خوف کی نذر ہو جاتے ہیں کہ معاشرہ کیا سوچے گا۔ اور کتنی ہی ناانصافیوں پر ہم آنکھیں بند کر لیتے ہیں کیونکہ ہمیں تماشائی بن کر کھڑے رہنا زیادہ محفوظ لگتا ہے۔

ہم اکثر کہتے ہیں کہ معاشرہ خراب ہو گیا ہے، مگر یہ معاشرہ آخر ہے کون؟ یہ ہم سب ہی تو ہیں۔ ہماری خاموشیاں، ہمارے رویے، ہمارے دوہرے معیار، اور دوسروں کے دکھ کو اپنا مسئلہ نہ سمجھنے کی عادت ہی مل کر معاشرہ بناتی ہے۔

افسوس یہ ہے کہ ہم اصلاح کم اور فیصلے زیادہ کرتے ہیں۔ کسی کا ہاتھ پکڑ کر اسے سنبھالنے کے بجائے، ہم اسے مجمع کے بیچ کھڑا کر کے اس کا حساب لینے لگتے ہیں۔ کسی کی لغزش ہمارے لیے نصیحت نہیں بلکہ تماشا بن جاتی ہے۔

شاید مسئلہ یہ نہیں کہ برے لوگ بہت زیادہ ہو گئے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اچھے لوگ خاموش ہو گئے ہیں۔ ہم نے اپنی ذمہ داری دوسروں کے کندھوں پر ڈال دی ہے اور خود کو یہ کہہ کر مطمئن کر لیا ہے کہ "میں اکیلا کیا کر سکتا ہوں؟"

لیکن تبدیلی ہمیشہ ایک انسان سے شروع ہوتی ہے۔ ایک آواز سے، ایک درست رویے سے، ایک ایسے فیصلے سے جس میں خوف نہیں بلکہ ضمیر کی آواز شامل ہو۔

اس لیے اگلی بار جب دل میں یہ سوال آئے کہ "لوگ کیا کہیں گے؟" تو ایک لمحے کے لیے خود سے یہ بھی پوچھ لیجیے:

اگر میں نے حق بات جانتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کی، تو میری اپنی ضمیر مجھ سے کیا کہے گی؟

ساحرہ ظفر

No comments:

لوگ کیا کہیں گے؟

  لوگ کیا کہیں گے؟ تحریر: ساحرہ ظفر کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے کا سب سے طاقتور جملہ "لوگ کیا کہیں گے؟" ہے۔ یہ جملہ ن...