Search This Blog

Monday, November 18, 2024

معصوم زارا اور ننھی جان

 ڈسکہ کا یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی نظام کی اس تلخ حقیقت کو سامنے لاتا ہے، جہاں خواتین کو اپنے ہی گھروں میں ظالموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ کہانی ایک ایسی خاتون کی ہے جو شادی کے بعد اپنے سسرال میں منتقل ہوئی تھی، ایک چار سالہ بیٹے کی ماں تھی، اور ایک نئی زندگی کو جنم دینے کے لیے سات ماہ کی حاملہ تھی۔ مگر افسوس، اس کی زندگی کو ایک دل دہلا دینے والے انجام تک پہنچایا گیا، اور اسے ایسی بربریت سے قتل کیا گیا کہ جس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ اس کی لاش کو جلا کر اس کی شناخت مٹانے کی کوشش کی گئی اور اس کے جسم کو نالے میں پھینک دیا گیا۔ یہ حادثہ محض ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بے حسی اور ظلم کی ایک جھلک ہے۔

Friday, November 15, 2024

زندگی کے انتخاب: کیا ہم شروع میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتے ہیں

 

ساحرہ ظفر 


زندگی میں ہم ہر دن نئے فیصلے کرتے ہیں، اور اکثر ہم وہ فیصلے فوری طور پر، بغیر کسی گہرے غور و فکر کے کر لیتے ہیں۔ یہ فیصلہ کرنا کہ ہم کس چیز کو ترجیح دیں گے، کہیں نہ کہیں ہماری زندگی کی سمت کو متاثر کرتا ہے۔

Monday, November 11, 2024

نیا نصاب اور ہم

 تحریر ساحرہ ظفر


پاکستان میں یہ بات کوئی نئی نہیں کہ تعلیمی ادارے بچوں کو ایک مخصوص سانچے میں ڈھال دیتے ہیں۔ "لکیریں کھینچنا" یا "لکیر کے فقیر" بنانا، بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی نظام کی بنیادی کمزوری بن چکی ہے۔ ہر دوسرا بچہ، چاہے اس میں کتنی ہی تخلیقی صلاحیتیں کیوں نہ ہوں، ایک مخصوص پیمانے پر پرکھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں نمبرز اور گریڈز پر اس قدر زور دیا جاتا ہے

Saturday, November 9, 2024

صرف وہ مالک ہے

 

تحریر ساحرہ ظفر

انسان کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی حقیقت کو پہچانے اور اپنی سرکشی سے بچ کر اپنے خالق کی رضا کی طرف قدم بڑھائے۔ جب انسان اپنی بےنیازی میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ یہ بھول جاتا ہے کہ آخرکار اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ سورة العلق کی آیات 6 تا 15 ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتی ہیں کہ جو شخص اللہ کی رضا کے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے، وہ نہ صرف اللہ کے حقوق بلکہ دوسروں کے حقوق بھی پامال کرتا ہے۔

Friday, November 8, 2024

مرد کے معاشرے میں عورت کے لئے حفاظت اور عزت کے مسائل


تحریر ساحرہ ظفر 


مرد کے معاشرے میں عورت ہمیشہ سے آزمائشوں اور چیلنجز کا سامنا کرتی آئی ہے۔ ہر عورت چاہے جتنی بھی محتاط، باعزت، اور خودمختار ہو، اسے قدم قدم پر کسی نہ کسی طرح مردوں کی نگاہوں میں پوشیدہ ہوس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ہوس بسا اوقات نظروں میں جھلکتی ہے، کبھی رویوں میں ظاہر ہوتی ہے اور کبھی الفاظ کی صورت میں کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔

علم کی روشنی

 

علم ایک ایسا خزانہ ہے جس کی روشنی انسان کو نہ صرف دنیا میں رہنمائی فراہم کرتی ہے بلکہ اسے روحانی بلندیوں کی جانب بھی لے جاتی ہے۔ قرآن مجید کے سورہ علق کی ابتدائی آیات، جو وحی کی ابتدا بھی ہیں، ہمیں علم کے عظیم مرتبے اور اللہ کی بے پایاں کرم نوازی کی یاد دلاتی ہیں:

Saturday, November 2, 2024

استاد بھی ایک انسان ہے ۔۔تحریر ساحرہ ظفر

 ہم سب اس بات پر گفتگو کر رہے ہیں کہ ایک اُستاد کو کامل ہونا چاہیے، مگر میرا یہ بھی ماننا ہے کہ اُستاد کی تربیت کا پہلو بھی انتہائی ضروری ہے۔ ایک کامیاب 

تحریر ساحرہ ظفر لڑکوں میں تعلیم کا جزبہ پیدا کرنے کا راز


یہ ایک حقیقت ہے کہ اُستاد بادشاہ نہیں ہوتا لیکن بادشاہ بنانے میں کلیدی کردار ضرور ادا کرتا ہے۔ پاکستانی اسکولوں میں اکثر لڑکے پڑھائی سے جی چراتے ہیں اور اُسے غیر دلچسپ سمجھتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں اُستاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں میں تعلیم سے دلچسپی پیدا کرے اور انہیں اس کا مقصد اور اہمیت سمجھائے۔ اُستاد کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ ایسا تعلق قائم کرے جو مضبوط بھی ہو اور دوستانہ بھی، تاکہ بچے اُستاد سے بے تکلفی اور اعتماد سے اپنی مشکلات بیان کر سکیں۔ اس تعلق میں احترام بھی ہو اور دوستانہ فضا بھی، تاکہ بچے اُستاد کی بات کو خوشی سے سنیں اور اس پر عمل کریں۔

Friday, November 1, 2024

لڑکوں میں پڑھائی کے رجحان کو کیسے بڑھایا جائے۔تحریر ساحرہ ظفر



لڑکوں میں پڑھائی کا شوق پیدا کرنے کے لیے والدین اور اساتذہ کا متوازن کردار ضروری ہے۔ بچہ تقریباً چھ گھنٹے اسکول میں گزارتا ہے، لیکن اٹھارہ گھنٹے گھر میں والدین کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس لیے والدین کا بچوں کے ساتھ برتاؤ ان کے پڑھائی کے شوق پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ یہاں تین عام والدین کے رویوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور یہ کہ ہر رویہ بچے کے مطالعے کے رجحان کو کیسے متاثر کرتا ہے۔

Thursday, October 31, 2024

لڑکے تعلیم سے کیوں ڈرتے ہیں تحریر ساحرہ ظفر

میرے خیال میں کئی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے لڑکے عموماً پڑھائی میں دلچسپی نہیں لیتے۔ ان کی حوصلہ افزائی پر بات کرنے سے پہلے، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وہ تعلیمی میدان سے دور کیوں ہو جاتے ہیں۔

Monday, October 28, 2024

حسد: آج کے معاشرے کا ناسور

 

حسد ایک ایسا ناسور ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ یہ جذباتی بیماری انسان کے دل کو سکون سے


آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں

 ‏ریسرچ کے مطابق آج کل ذہنی دباؤ کی ایک بڑی وجہ اپنے اردگرد کے احمقوں سے نمٹنا ہے -

ایک دانا شخص سے کسی نے پوچھا کہ” آپ اتنے خوش کیسے رہتے ہیں

 


Tuesday, October 22, 2024

کرسی کی تاریخ: طاقت، ثقافت اور آرام کی علامت



کرسی کا تصور جتنا عام نظر آتا ہے، اس کی تاریخ اتنی ہی دلچسپ اور قدیم ہے۔ انسانی تہذیب کے ارتقا کے ساتھ، بیٹھنے کے طریقے بھی بدلے۔ کرسی محض ایک روزمرہ کا فرنیچر نہیں بلکہ طاقت، حیثیت، فن، اور ثقافتی تبدیلیوں کا آئینہ دار رہی ہے۔


 

کرسی کا آغاز ابتدائی تہذیبوں میں طاقت اور اختیار کی علامت کے طور پر ہوا۔ مصر، یونان اور روم جیسی قدیم تہذیبوں میں تخت نما کرسیاں بادشاہوں، فلاسفروں، اور اعلیٰ شخصیات کے لیے مخصوص تھیں۔ مصر کے فرعونوں کی کرسیاں سونے اور قیمتی پتھروں سے مزین ہوتی تھیں، جو ان کے رتبے کی عکاس تھیں۔ عام لوگ زمین پر یا چٹائیوں پر بیٹھتے تھے، جس سے کرسی کا تعلق اشرافیہ سے واضح ہوتا تھا۔

بامِ فکر: شعور کی بیداری کا سفر

  


زندگی کے اس تیز رفتار دور میں، ہم سب کو ایک ایسے مقام کی تلاش ہوتی ہے جہاں ہم اپنی سوچوں کو پروان چڑھا سکیں۔ بامِ فکر ایک ایسی جگہ ہے جہاں ذہن کو وسعت ملتی ہے، خیالات نئی راہیں اختیار کرتے ہیں، اور شعور کی بیداری کا سفر شروع ہوتا ہے۔

تعلیم کی کرن



علی ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔ صبح سویرے اس کے ہم عمر بچے اسکول جاتے تھے، لیکن علی کا دن کھیتوں میں مزدوری کرتے گزرتا تھا۔ اس کے والدین سمجھتے تھے کہ تعلیم امیروں کا شوق ہے، جبکہ غربت کے شکار لوگوں کو صرف پیٹ بھرنے کی فکر کرنی چاہیے۔ علی بھی یہی سوچنے لگا کہ شاید اس کی زندگی ہمیشہ اسی طرح گزرے گی۔


ایک دن گاؤں کے اسکول میں ایک نئی استانی، مریم بی بی، آئیں۔ انہوں نے دیکھا کہ علی جیسے کئی بچے اسکول کے باہر کھیل رہے ہیں یا مزدوری کر رہے ہیں۔ مریم بی بی نے فیصلہ کیا کہ وہ ان بچوں کے والدین سے بات کریں گی اور انہیں تعلیم کی اہمیت سمجھائیں گی۔


جب مریم بی بی علی کے گھر پہنچیں تو علی کے والد غصے میں بولے، "ہمیں اسکول نہیں، مزدوری کرنے والے ہاتھوں کی ضرورت ہے!"

مگر مریم بی بی نے نرمی سے کہا، "اگر علی پڑھ لکھ جائے گا، تو وہ نہ صرف اپنے گھر بلکہ گاؤں کی قسمت بھی بدل سکتا ہے۔" انہوں نے علی کی ماں کو سمجھایا کہ تعلیم صرف کتابوں کا بوجھ نہیں، بلکہ ایک بہتر زندگی کا دروازہ ہے۔


علی کی ماں کچھ دیر کے لیے سوچ میں پڑ گئی۔ اگلے دن علی پہلی بار اسکول گیا۔ شروع میں اسے مشکل پیش آئی، مگر آہستہ آہستہ وہ پڑھائی میں دلچسپی لینے لگا۔ چند مہینوں میں علی نہ صرف پڑھنے لگا بلکہ اپنے خواب بھی دیکھنے لگا — وہ ڈاکٹر بننا چاہتا تھا تاکہ گاؤں کے بیمار لوگوں کا مفت علاج کر سکے۔


علی کے والدین کو جب یہ احساس ہوا کہ ان کا بیٹا پڑھائی میں اچھا ہے اور اپنے خوابوں کے پیچھے بھاگ رہا ہے، تو انہیں خوشی ہوئی کہ انہوں نے علی کو اسکول بھیجا۔ علی کے ساتھ ساتھ گاؤں کے دیگر بچے بھی تعلیم حاصل کرنے لگے، اور گاؤں میں ایک مثبت تبدیلی کی لہر دوڑ گئی۔


یہ سب مریم بی بی کی کوششوں کا نتیجہ تھا، جنہوں نے علی جیسے بچوں کو تعلیم کی نئی دنیا سے روشناس کروایا۔ علی کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ تعلیم نہ صرف فرد کی بلکہ پورے معاشرے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔


"تعلیم زندگی کی نئی راہیں کھولتی ہے۔"


Sunday, October 20, 2024

رویوں کی کہانی

 


ایک گاؤں میں احمد اور جمیل پڑوسی تھے، لیکن دونوں کے مزاج بالکل مختلف تھے۔ احمد ہر وقت مسکراتا رہتا اور دوسروں کے کام آتا۔ اگر کسی کو مشکل پیش آتی، تو احمد بغیر پوچھے مدد کے لیے پہنچ جاتا۔ لوگ اس سے خوش تھے اور اس کی صحبت میں سکون محسوس کرتے تھے۔

Monday, October 14, 2024

معاشرے کی کہانی


 ہر معاشرے کے اندر سماجی نابرابری ,برائیاں, بدعات, تعصب ,تخریب کاری, اناپرستی, و اقربا پرستی کی بدعاتی موجود ہوتی ہیں. لیکن آج سے 1400سو سال قبل نبی برحق صلی اللہ علیہ وصلم کی آمد کے ساتھ ہی اسلام نے ایک نیا فلسفہ زندگی پیش کیا جس میں ان سب برائیوں سے قطع تعلق و منع فرمایا گیا. اور عملی طور پر ایک نمونہ زندگی ہمارے 

لوگ کیا کہیں گے؟

  لوگ کیا کہیں گے؟ تحریر: ساحرہ ظفر کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے کا سب سے طاقتور جملہ "لوگ کیا کہیں گے؟" ہے۔ یہ جملہ ن...